سندھ میں سیلاب متاثرین کو راشن بیگ، خیمے ، پانی اور دیگر اشیا کی فراہمی کا سلسلہ جاری۔

عدنان اطہر عدنان اطہر

سندھ میں سیلاب متاثرین کو راشن بیگ، خیمے ، پانی اور دیگر اشیا کی  فراہمی کا سلسلہ جاری۔

سندھ میں سیلاب متاثرین کو راشن بیگ، خیمے ، پانی اور دیگر اشیا کی  فراہمی کا سلسلہ جاری۔

تاثرہ علاقوں سے پانی کی نکاسی کے لئے  ضلعی انتظامیہ کو پمپس اور ضروری مشینیں فراہم کردی گئی ہیں۔

انڈونیشیا  سے  ڈاکٹروں  اور طبی عملے کی تیس رکنی ٹیم  بھی  سندھ پہنچ گئی۔

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کےمطابق اب تک سیلاب متاثرین  کو چودہ لاکھ سے زائد راشن بیگ، پانچ  لاکھ سے زائد خیمے، اور تقریبا اتنے ہی  پلاسٹک ترپال  فراہم کئے گئے ہیں۔

 متاثرین کو  آٹھ لاکھ  لیٹر کے لگ بھگ  منرل واٹر اور دیگر سامان بھی   مہیا کیا گیا۔

 صوبے بھر کے ریلیف کیمپس میں  تین لاکھ چھیالیس ہزار سے زائد جبکہ کراچی ڈویژن کے کیمپوں میں پندرہ ہزار سے زائد متاثرین سیلاب مقیم ہیں۔

گزشتہ چوبیس گھنٹے  میں چھ ہزار، ایک سو چھپن متاثرین کیمپس سے اپنےگھرو ں کو روانہ ہوئے۔

 شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں سے پانی کی نکاسی سندھ حکومت کی ترجیح ہے۔

  پرووینشل ڈیزاسٹر  مینجمنٹ  اتھارٹی، محکمہ آبپاشی، اسکارپ اور پبلک ہیلتھ  ڈپارٹمنٹ  کی جانب سے ضلعی انتطامیہ کو  ہیوی پمپس اور دیگر ضروری مشینری فراہم کی گئی  ہے۔

دوسری جانب انڈونیشیا کی حکومت  نے  سندھ میں سیلاب متاثرین   کے لئے ڈاکٹروں  اور طبی عملے کی تیس رکنی ٹیم بھجوادی۔

کراچی میں انڈونیشیا  کے قونصل جنرل   کے ہمراہ  طبی  ٹیم   نے وزیراعلیٰ سندھ  مراد علی شاہ سے ملاقات کی۔

 وزیراعلی سندھ  نےبتایا کہ   سندھ میں  شدید  بارشوں اور سیلاب سے  پندرہ  لاکھ  لوگ بے گھر  ہوئے ہیں۔ چھ لاکھ  سے زائد  لوگ کیمپوں  میں رہائش پذیر ہیں۔

پانی  ٹھہرنے  سے پیدا ہونے والی بیماریاں  جان لیوا ثابت  ہورہی ہیں۔

 بیماریوں  کی روک تھام  کے لیے سندھ حکومت  نے میڈیکل کیمپس  قائم کئے ہیں۔

قونصل جنرل  نے کہا کہ انڈونیشیا سے آئی  میڈیکل ٹیم  سیلاب  سے متاثرہ  علاقوں میں کام کرے گی۔