کراچی سےمصطفیٰ عامر کی گمشدگی اور مبینہ قتل کے الزام میں گرفتارمرکزی ملزم ارمغان کیخلاف کےدوران انسداد دہشتگردی، اقدام قتل، منشیات فروشی، ڈرانے دھمکانے اور دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔۔۔تحقیقات کےدوران ارمغان کی رہائشگاہ سے مصطفیٰ سمیت دو افراد کے خون کے نشانات پائے جانے کی تصدیق ہوئی ہے ۔۔۔ تفتیشی ذرائع کادعوٰی ہےکہ گرفتار ملزم ارمغان ماضی میں بھی پولیس اور اے این ایف کے ہاتھوں گرفتار ہوچکا ہے۔
مصطفیٰ عامر گمشدگی اور مبینہ قتل کیس میں ہولناک انکشافات
تفتیشی حکام کادعویٰ ہے کہ ملزم نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مصطفیٰ عامر کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔
ملزم نےلاش اور گاڑی کو جلانے کے لئے پیٹرول سے بھرا کین گھر سے رکھ کر بلوچستان کاسفرکیا ۔۔۔
اب تک کی تحقیقات کےمطابق ملزم ارمغان کے گھر کارپٹ سے ملنے والے خون کے نشانات مصطفیٰ عامر کے علاوہ کسی اورکےبھی ہیں
ڈی این اے جانچ کے دوران مصطفیٰ سمیت دو افراد کے خون کے نشانات پائے جانے کی تصدیق ہوئی ہے ۔
حکام کادعویٰ ہےکہ سولہ جنوری کو لاوارث قرار دیکر دفنائے گئے نوجوان مصطفیٰ عامر کی قبر کی بھی نشاندہی کی جا چکی ہے۔۔۔
مبینہ قتل کےالزام میں گرفتارمرکزی ملزم ارمغان کاکرمنل ریکارڈ بھی سامنے آگیا ۔۔۔
ملزم ماضی میں بھی پولیس اور اے این ایف کے ہاتھوں گرفتار ہوچکا ہےجس پر دوہزارانیس سے دوہزارچوبیس کےدوران چھ مقدمات درج ہوئے ۔۔۔ملزم پر انسداد دہشتگردی، اقدام قتل، منشیات فروشی، ڈرانے دھمکانے اور دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔
تفتیشی ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ ملزم نے گزری میں واقع اپنی رہائش گاہ پر غیر قانونی کال سینٹرقائم کیاہواتھا ۔۔۔ جہاں سے ملزم نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران غیر ملکیوں سے کروڑوں روپے کا فراڈ کیا ۔۔۔ملزم نے ہیرپھیر کیلئے درجنوں ڈیجیٹل کرنسی اکاؤنٹس بھی بنا رکھے تھے۔۔۔ثبوت مٹانےکےلیے گرفتاری سے قبل گھر میں موجود تمام لیپ ٹاپس کا ڈیٹا ڈیلیٹ کیےجانےکابھی انکشاف ہواہے۔۔۔ پولیس سے مقابلہ کے دوران ملزم نے لیپ ٹاپس کو خالی بھی کیا تھا۔۔۔مقابلے میں ایک ڈی ایس پی اور اہلکار زخمی بھی ہواتھا۔۔۔