سندھ اسمبلی نےتین سو بارہ ارب روپے کا ضمنی بجٹ منظور کرلیا ۔
اپوزیشن کی ضمنی بجٹ پر کٹوتیوں کی تمام تحاریک مسترد کردی گئیں۔
سندھ اسمبلی نے تین سو بارہ ارب روپے کا ضمنی بجٹ منظور کرلیا ۔
ضمنی بجٹ میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی پر پچپن ارب خرچ کئے گئے۔
گندم کی سبسڈی پر پچپن ارب اور قرض کی ادائیگی پر انیس ارب روپے خرچ ہوئے۔
ضمنی بجٹ میں تینتالیس ارب صحت اور سولہ ارب بجلی کے واجبات کی ادائیگی پر استعمال ہوئے۔
اس سے قبل وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے اپوزیشن کی جانب سے کتوتی کی تحاریک پر اظہار خیال کیا۔
ان کا کہنا تھا بجٹ کےچارجڈ اخراجات پر ارکان کو بحث کی اجازت ہوتی ہے۔
چارجڈ اخراجات میں گورنر ،ججز اور اسپیکر اور ان کےدفاتر کےاخراجات شامل ہوتےہیں۔
ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کےججز کےچارجڈ اخراجات چار ارب روپے سےزائد ہیں۔
اڑتالیس ارب بیرونی قرضے کی ادائیگیوں کے چارجڈ اخراجات ہیں
وزیراعلی نے کہا کٹوتی کی تحاریک کا معیشت پر اثر ہونا چاہیے۔
ان سے اکنامی کون سے بہتر ہوگی۔ میری درخواست ہے ان کو مسترد کردیا جائے۔
جس کے بعد سندھ اسمبلی نے ضمنی بجٹ منظور کرلیا۔